GuidePedia

0
ejz/

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے چوہدری سرور نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس حکومت چلانے کی منصوبہ بندی نہیں، شریف برادران سے نہیں بلکہ ایشوز پر اختلافات تھے۔ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پاس حکومت چلانے کی منصوبہ بندی نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف مسلم لیگ ن کی حکومت گرانا نہیں چاہتی بلکہ ملک میں انتخابی اصلاحات لانا چاہتی ہے اور اگر مسلم لیگ ن نے دھاندلی نہیں کی تو دوبارہ گنتی کرانے میں کس بات کا ڈر ہے؟ 

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ملک میں انتخابی اصلاحات چاہتی ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن کا قیام حکومت کے اپنے لئے بھی بہتر ہے اور جوڈیشل کمیشن کافیصلہ بھی سب کو تسلیم کرنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری سرور نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں پولیس سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہے اور وہاں کے وزیراعلی پولیس کے معاملات میں دخل اندجازی نہیں کرتے جبکہ پنجاب پولیس میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں حتیٰ کہ سفارت کاروں کو بھی سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہسپتالوں کی ابتر صورتحال بدلنے میں ناکام رہی ہے اور عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ 

امریکہ کا پاکستان میں اثر ورسوخ اور امریکی صدور سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا منتخب صدر جمہوری ادوار میں تو پاکستان کا رخ نہیں کرتا البتہ آمریت کے دور میں پاکستان کے دورے کرتے ہیں۔ پاکستان کو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کر کے اسے بہتر بنانا چاہئے۔ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری سرور نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاہم ان کا بننا حکومت کی نااہلی ہے اسی لئے فوجی عدالتوں کے قیام پر مبارکباد دینے والوں پر شدید حیرت ہوئی تاہم پاک فوج دنیا میں پاکستان کا کیس درست انداز میں لڑ رہی ہے۔





Post a Comment

 
Top