نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ نے امریکی صدر اوباماکے ’سٹیٹ آف دا یونین‘ کے خطاب میں نشے میں ہونے کا اعتراف کرلیا۔
بی بی سی کے مطابق اپنی ساتھی آنٹونن سکالیا کے ساتھ ایک موقع پرجسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ نے کہاہے کہ وہ پوری طرح ہوش میں نہیں تھیں ، خطاب سے پہلے ہونے والی دعوت میں دستیاب شراب کو انکار نہیں کرسکیں ۔
یادرہے کہ 81 سالہ جسٹس روتھ امریکی سپریم کوٹ کی سب سے زیادہ عمر کی جج ہیں۔جسٹس روتھ کہتی ہیں کہ کئی سال پہلی بھی وہ کسی خطاب کے دوران سو گئی تھیں جس کے بعد انھوں نے عزم کیا تھا کہ وہ آئندہ دعوت میں صرف پانی پیئیں گی لیکن جسٹس آنڈرو کی لائی ہوئی ’بہترین کیلی فورنیا کی شراب‘ کی وجہ سے وہ اپنے آپ بر قابو نہ رکھ پائیں۔
واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکی صدر اوباما نے ایوان نمائندگان میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کیا جس کے دوران جسٹس روتھ کی اونگھتے ہوئے تصاویر سامنے آئیں۔
بی بی سی کے مطابق اپنی ساتھی آنٹونن سکالیا کے ساتھ ایک موقع پرجسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ نے کہاہے کہ وہ پوری طرح ہوش میں نہیں تھیں ، خطاب سے پہلے ہونے والی دعوت میں دستیاب شراب کو انکار نہیں کرسکیں ۔
یادرہے کہ 81 سالہ جسٹس روتھ امریکی سپریم کوٹ کی سب سے زیادہ عمر کی جج ہیں۔جسٹس روتھ کہتی ہیں کہ کئی سال پہلی بھی وہ کسی خطاب کے دوران سو گئی تھیں جس کے بعد انھوں نے عزم کیا تھا کہ وہ آئندہ دعوت میں صرف پانی پیئیں گی لیکن جسٹس آنڈرو کی لائی ہوئی ’بہترین کیلی فورنیا کی شراب‘ کی وجہ سے وہ اپنے آپ بر قابو نہ رکھ پائیں۔
واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکی صدر اوباما نے ایوان نمائندگان میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کیا جس کے دوران جسٹس روتھ کی اونگھتے ہوئے تصاویر سامنے آئیں۔

Post a Comment